نئی دہلی،09 اکتوبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) وزیرخارجہ سشماسوراج نے اپنے ماتحت وزیرمملکت ایم جے اکبرپر انکی صحافتی زندگی کے دوران دوخاتون صحافیوں کا جنسی استحصال کیے جانے کے الزامات پر آج خاموشی اختیار کرلی۔وزارت خارجہ میں ’انڈیا فارہیومنٹی ‘پہل کے آغاز کے موقع پر پروگرام ختم ہونے کے بعدصحافیوں نے جب سوشل میڈیا میں جاری ،’می ٹو‘مہم میں وزیر مملکت برائے امورخارجہ مسٹر اکبرپر الزامات کے بارے میں پوچھا تو محترمہ سوراج بغیر کچھ بتائے چلی گئیں۔بعد میں ذرائع نے بتایا کہ یہ معاملہ مسٹر اکبر کے وزیرکی حیثیت سے برتاؤسے منسلک نہیں ہے اور نہ اسکا وزارت سے کوئی لینا دینا ہے۔چونکہ یہ معاملہ پوری طرح سے انفرادی ہے اس لیے سب کو لگتاہے کہ اس بارے میں مسٹر اکبر ہی کچھ کہہ سکتے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مسٹر اکبر کا بیان آنے کے بعد ہی وزیر خارجہ کچھ بول سکتی ہیں۔مسٹر اکبرپردوخاتون صحافیوں نے جنسی استحصال کا الزام لگایاہے۔ایک رپورٹ کے مطابق 2017میں ایک خاتون صحافی نے آپ بیتی سنائی تھی ،جس کے مطابق اسکے باس نے اسے ہوٹل کے کمرے اسے جاب انٹرویو کے لئے بلایاتھا۔ہاروے ونسٹن آف دی ورلڈ نام سے لکھے پوسٹ میں کہاکہ مسٹر اکبرنے ہوٹل کے کمرے میں انکا انٹرویو لیا اور انھیں شراب پینے کی پیش کش کی۔انھوں نے بستر پر اپنے پاس بیٹھنے کوکہا۔پوسٹ میں کہاگیاکہ مسٹر اکبر فحش فون کالس،میسیج اور تبصرہ کرنے میں ماہر ہیں۔اکبر نے انکے سامنے ہندی گانے بھی گائے تھے۔مسٹر اکبر کئی اخبارات اور رسائل کے مدیر رہ چکے ہیں۔